بدھ، 27 اگست، 2014

منطق، حقیقت، الف اور اتفاق۔

جب میں کہتا ہوں کہ "الف" نا معلوم ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ "الف" جو کچھ بھی ہے وہ کسی تصور میں نہیں سما سکتا۔ اگر تم یہ کہو کہ : "الف" فلاں ہے۔ تو تم کو ثابت کرنا ہوگا کہ الف فلاں کیوں ہے؟
اگر تم کہو کہ: الف "فلاں" نہیں ہے، تو تمہیں ثابت کرنا ہوگا کہ الف فلاں کیوں نہیں ہے۔
جیسے اگر میں کہتا ہوں کہ: "الف" حقیقت ہے۔ تو در حقیقت میں ایک وقت میں دو باتیں کہتا ہوں۔ یعنی:

۱) الف حقیقت ہے
۲) حقیقت الف ہے
در اصل جب یہ مان لیا گیا کہ حقیقت نا معلوم ہے، یا حقیقت موجود نہیں ہے، یا حقیقت کو کوئی سمجھ نہیں سکتا تو میں نے حقیقت کو "الف" کہہ دیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں نے در حقیقت الف کو حقیقت نہیں کہا تھا، بلکہ حقیقت کو الف کہا تھا۔
لیکن جب میں نے یہ کہہ دیا کہ حقیقت الف ہے تو مجھے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ الف حقیقت ہے۔
اگر تم یہ کہتے ہو کہ الف نامعلوم ہے، اس لیے مجھے اس پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے مجھے اسکو "الف" کہنے کی بھی ضرورت نہیں تو تم یقیناً غلط ہو۔
اگر تم کہتے ہو کہ تمہیں الف سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تم الف کے بنا مطمئن ہو۔ تب بھی تم غلط ہو۔
کیونکہ تمہارا اطمینان در حقیقت غیر حقیقی یا استثنائی ہے۔ تم اسباب کی دنیا میں ہر چیز کی توجیہہ چاہتے ہو۔ مثلاً تم جاننا چاہتے ہو کہ زمین کیا ہے؟ تم اس کی توجیہہ کرتے ہو۔ تم جاننا چاہتے ہو کہ ستارے اور سیارے کیا ہیں، تم اس کی بھی توجیہہ کرتے ہو۔ تم جاننا چاہتے ہو کہ نور کیا ہے، تم اس کی توجیہہ کرتے ہو، تم جاننا چاہتے ہو کہ تم کیسے پیدا ہوئے؟ تم اس کی بھی توجیہہ کرتے ہو۔ تم جاننا چاہتے ہو کہ کائنات کیسے وجود میں آئی، تم نے اس کی بھی توجیہہ کرلی۔ لیکن جب سوال ان سب سے بالا تر ہو تو تم کہتے ہو کہ تم اسے بغیر جانے اور بغیر مانے ہی مطمئن ہو؟
مثلاً: تم نے اپنے پیدا ہونے کی علت کی توجیہہ کرلی، لیکن کیا تم نے کرہِ ارض پر پہلی زندگی کے وجود کی کوئی جامع اور معقول توجیہہ کرلی ہے؟
تم نے یہ تو جان لیا کہ قدرت اپنے قوانین کے تحت چلتی ہے۔ لیکن کیا تم نے اس بات کی توجیہہ کی ہے کہ یہ اپنے قانون کے تحت "کیوں" چلتی ہے؟
تم جانتے ہو کہ تمہیں حصولِ مقاصد کے لیے قدرت کے قوانین کے مطابق چلنا پڑتا ہے، لیکن کیا تم نے اس سوال کی توجیہہ کرلی کہ قدرت کے قوانین کون طے کرتا ہے؟
تم جانتے ہو کہ مادہ شعور نہیں رکھتا لیکن کیا تم نے اس سوال کی توجیہہ کرلی ہے کہ مادہ لاشعوری سے شعور کی دہلیز تک دماغ کی صورت میں کیوں پہنچا؟
اگر تم نے ان سب سوالات کی کوئی معیاری، اور معقول توجیہہ کرلی ہے تو وہ کیا ہے؟
کیا تم یہ کہوگے کہ یہ محض اتفاق ہے؟
کیا اس سے بڑی جہالت کا کوئی جواب ہوگا کہ تم کسی واضح طور پر مستقل ہونے والے مظہر کو محض ایک اتفاق کہو؟
کیا تم ان بے کم و کاست قوانین کو محض اتفاق کہوگے؟
کیا تم نے اتفاق سے کچھ تعمیر ہوتا دیکھا ہے؟ اور وہ بھی اس قدر استقامت کے ساتھ ؟
کیا تم دماغ کے اس قدر منطقی رویے کو اتفاق کہوگے؟
کیا ایک اتفاق سے وجود میں آئی چیز کی کوئی اہمیت ہے؟
کیا تمہاری "سوچ" اور تمہاری رائے کی کوئی اہمیت ہے؟
تم دماغ سے منطقی مباحث اور فیصلے کرتے ہو اور وہ کائنات کے اصولوں کے مطابق درست بھی ہوجاتے ہیں، کیا ایسا اتفاق سے ہونا ممکن ہے؟
کیا ہوا میں اتفاق سے چل گیا تیر ہمیشہ نشانے پر لگتا ہے؟
کیا سمندر کی بے ترتیب لہریں تمہیں چین کا نقشہ بنا کردے دیتی ہیں؟
پھر تم اتفاقیہ وجود میں آئے دماغ کے اندر اٹھے سوالات کے جوابات کو صحیح یا غلط تسلیم کر لینے کے مستحق کیسے ہوسکتے ہو؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں