بدھ، 27 اگست، 2014

خدا کا موجود ہونا ایک سچ ہے

خدا کا موجود ہونا ایک اکیلا ایسا "سچ" ہے جس پر ہر انسان جو "فہم" رکھتا ہو، اتفاق کرسکتا ہے۔

سمجھنے کے لیے یوں فرض کیجئے کہ

"الف" [تمام اشیاء و عناصر کے حقیقی برتاؤ] کا تعین کرتا ہے

مثلاً کوئی نہیں جانتا کہ "الف" کیا ہے؟ پھر بھی وہ یہ ضرور "جانتا ہے" کہ ہم سب کو کسی بھی "مقصد" کے حصول کے لیے کسی خاص طریقۂ کار کے "تحت" چلنے کی "ضرورت" ہے۔ لیکن یہ بھی واضح ہے کہ کوئی انسان وہ "ضروریات" نہیں بتاتا جس کے "تحت" چلنے کی "ضرورت" ہے۔

اس لیے:

کسی بھی "مقصد" کے حصول کے لیے "ضروریات" کا تعین "الف" کرتا ہے

سائنس اپنی علمی اور تجرباتی مفاہمت کے ذریعے محض ان "ضروریات" کے "تحت" کام کرتی ہے۔

اب اگر میں یہ کہوں کہ لفظ "الف" (بہر صورت) "خدا" کا قائم مقام ہے۔ یعنی

الف = خدا

تو بات یوں ہوتی ہے کہ:
کسی بھی "مقصد" کے حصول کے لیے "ضروریات" کا تعین "خدا" کرتا ہے

سائنس اپنی علمی اور تجرباتی مفاہمت کے ذریعے محض "خدا" کی متعین کردہ "ضروریات" کے "تحت" کام کرتی ہے۔

ٹامس ایڈیسن نناوے مرتبہ بلب نہیں روشن کر سکا کیونکہ وہ "الف" کی متعین کردہ ضروریات کے خلاف کام کرتا رہا۔ لیکن جب وہ الف کے متعین کردہ ضروریات کو پورا کرنے میں کامیاب ہوا تو بلب روشن ہوگیا۔

یعنی تم کچھ بھی کرلو لیکن تمہیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے الف کی متعین کردہ ضروریات کے تحت کھیلنا پڑے گا، ورنہ ہار جاؤ گے۔ 

الف بہر صورت خدا کا "نام" ہے۔

فیس بک پوسٹ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں