انسانی عقل جب تک اس قابل نہ ہو جائے کہ وہ ہر "کیوں" کا جواب دے سکے تب تک اسے خدا کا انکار کرنا جچتا نہیں ہے۔ مثلاً کائنات میں ایک منظم قانون پایا جاتا ہے۔ یہ عقل جانتی ہے۔ لیکن یہ قانون کیوں پایا جاتا ہے؟ یہ توجیہہ کیسے ہوگی؟ کائنات میں ریاضی اور منطق کے اصول قطعیہ موجود ہیں۔
یہ عقل جانتی ہے۔ لیکن یہ اصول اس درستی کے ساتھ کیوں موجود ہیں؟ اس کا تعین کون کرے گا؟
یہ عقل جانتی ہے۔ لیکن یہ اصول اس درستی کے ساتھ کیوں موجود ہیں؟ اس کا تعین کون کرے گا؟
مادہ شعور نہیں رکھتا۔
دماغ مادہ ہے۔
لہذا دماغ کو شعور نہیں رکھنا چاہیے۔
لیکن دماغ شعور دار کیوں ہے؟
ایسے بہت سے کیوں ہیں جو ہمیشہ سے نا معلوم ہیں- ان کی کوئی توجیہہ ممکن نہیں۔
اسی کے ماخذ کو میں "الف" کہتا ہوں۔
الف خدا کا نام ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں